Top Menu

Drop Down MenusCSS Drop Down MenuPure CSS Dropdown Menu

Wednesday, November 5, 2014

ڈاکٹر سرفراز خان نیازی ؛ دنیائے طب میں انقلاب لانے والے پاکستانی سائنس دان


جب وہ والدین کے ہمراہ لکھنؤ سے کراچی پہنچے، تو متوسط طبقے کے ایک علاقے میں سر چھپانے کو جگہ ملی۔ اس محلے میں بعض غریب خاندان بھی آباد تھے۔ 13 سالہ سرفراز خان نیازی نے وہیں پہلی بار غربت کی تباہ کاریاں دیکھیں۔ان غریب گھرانوں میں سبھی لوگ بہ مشکل دو وقت کی روٹی کھا کر جسم و جاں کا ناتا برقرار رکھتے۔ لیکن جب کوئی فرد بیمار پڑتا تو، پورا گھرانا عجیب آفت میں مبتلا ہوجاتا۔ آمدن محدود تھی لہٰذا باپ اس مخمصے میں گرفتار رہتا کہ چندا کی دوا لائے یا روز کا کھانا جس سے سب پیٹ بھرتے تھے؟
سرفراز نے بچشم خود دیکھا کہ غریبوں کو مہنگی دوا نہ ملتی، تو وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے۔ ان واقعات نے حساس سرفراز پر گہرا اثر کیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ادویہ سازی کا ماہر بنے گا تاکہ غربا کے لیے سستی دوائیں ایجاد کرسکے۔
نصف صدی قبل ایک پاکستانی لڑکے نے جو خواب دیکھا تھا، آج وہ امریکا میں اسے عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے اور یہ کوئی عام سعی نہیں۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی ادویہ سازی میں انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ وجہ یہ کہ سرفراز انتہائی مہنگی مگر بہت مفید ادویہ کی سستی نقول بنانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔
یہ 1995ء کی بات ہے جب ڈاکٹر سرفراز نیازی ماہر ادویہ سازی بن چکے تھے۔ انہیں احساس ہوا کہ مستقبل میں ’’حیاتی ادویہ‘‘ (biologics) انسانوں کے زیادہ کام آئیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ جراثیم جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے خود کو طاقتور بنانے لگے تھے اور کئی اینٹی بائیوٹک ادویہ انہیں مارنے میں ناکام رہی تھیں۔
اینٹی بائیوٹک اور دیگر کیمیائی ادویہ کیمیکل مادوں سے بنتی ہیں جبکہ حیاتی ادویہ زندہ خلیوں یا سالموں (molecules) سے تیار ہوتی ہیں۔ کیمیائی ادویہ کبھی اثر کرتی ہیں کبھی نہیں، مگر حیاتی دوائیں عموماً بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ زندہ خلیوں سے بننے کے باعث حیاتی ادویہ کیمیائی دواؤں کی نسبت خاصی مہنگی ہوتی ہیں۔ وجہ یہ کہ انہیں ایجاد کرنے کی خاطر کثیر سرمایہ اور بہت بڑی جگہ درکار ہوتی ہے۔ ان اخراجات کی وجہ سے جب ایک حیاتی دوا معرض وجود میں آئے، تو ادویہ ساز کمپنی اسے مہنگی فروخت کرتی ہے تاکہ اپنا خرچہ پورا کرسکے۔
آج حیاتی ادویہ کے ذریعے کینسر، ذیابیطس، گٹھیا، چنبل، مرض کروہن (Crohn’s disease)، امراض گردہ، کمی خون (اینیما) وغیرہ جیسے خطرناک امراض کا کامیابی سے علاج جاری ہے۔ نیز جین تھراپی، خلویاتی تھراپی، ویکسین، مصنوعی خون کی مصنوعات، انسانی اعضا کی ٹرانسپلانٹیشن بھی حیاتی ادویہ کے زمرے میں شامل ہے۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی کی سوچ درست تھی مگر سستی حیاتی ادویہ تیار کرنے کے لیے کروڑوں روپے درکار تھے۔ یہ بھاری بھرکم سرمایہ کہاں سے آتا؟ چناں چہ وہ کوئی ایسا آسان طریقہ ڈھونڈنے لگے جس سے سستی حیاتی دوا بن سکے۔ان کی خوش قسمتی کہ بیسویں صدی کے اواخر ہی میں ایک نئی قسم کی دوا ’’حیاتی مماثل‘‘ (biosimilar) نظریہ سامنے آگیا۔ یہ حیاتی مماثل دوا دراصل حقیقی حیاتی دوا کی نقل ہوتی ہے۔
امریکا اور یورپ میں ایک کیمیائی یا حیاتی دوا کی رجسٹریشن (یاپیٹنٹ) کا عرصہ 17 تا 20 سال پر محیط ہے۔ جب یہ عرصہ ختم ہوجائے، تو اس دوا کو کوئی بھی ادویہ ساز ادارہ بناسکتا ہے۔ شعبہ حیاتی ادویہ میں انہی دواؤں کو ’’حیاتی مماثل دوا‘‘ کا نام دیا گیا۔
حیاتی مماثل دوا بنانے میں حقیقی دوا کی نسبت کم اخراجات آتے ہیں۔ وجہ یہ کہ حقیقی دوا کی تحقیق و تجربات میں جو پیسہ لگا تھا، وہ اب صرف نہیں ہوتا۔ پھر بھی حیاتی مماثل دوا کی قیمت زیادہ کم نہیں ہوپاتی۔ اس کی وجہ دوا بنانے کا طریق کار ہے۔
فیکٹری میں ایک حیاتی دوا اسٹیل سے بنی دیوہیکل کیتلیوں میں تیار ہوتی ہے۔ جب دوا بن جائے، تو یہ کیتلیاں بذریعہ بھاپ صاف کی جاتی ہیں۔ یہ سارا عمل کئی دن میں مکمل ہوتا ہے۔ نیز کیتلیاں لگانے کی خاطر ہزاروں مربع فٹ جگہ درکار ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی سوچنے لگے کہ کیا حیاتی مماثل دوا کسی چھوٹی کیتلی یا ملتی جلتی شے میں تیار نہیں ہوسکتی؟ موزوں شے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے مختلف اشیا پر تجربے کیے۔ آخر کار اپنی خداداد ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر انہوں نے موزوں شے دریافت کر ہی لی… یہ ایک پلاسٹک بیگ ہے۔
تحقیق و تجربات سے افشا ہوا کہ آٹھ فٹ لمبے اور چار فٹ چوڑے پلاسٹک بیگ میں خلیے و سالمے وغیرہ تیزی سے پرورش پاتے اور بہت جلد دوا بناڈالتے ہیں۔ اسٹیل کیتلی کے مقابلے میں انہیں ماحول بھی نرم و ملائم ملتا ہے اور دوا تیار کرنے کے اس طریقے میں صفائی بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ بس جب مطلوبہ مقدار میں دوا بن جائے، تو پلاسٹک بیگ پھینک دو۔
ڈاکٹر سرفراز نے پلاسٹک بیگ کے ذریعے پہلی حیاتی مماثل دوا کامیابی سے تیار کی، تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا۔ انہیں یقین ہوگیا کہ پلاسٹک بیگوں کے ذریعے وہ وسیع پیمانے پر حیاتی ادویہ تیار کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ خطرناک بیماریوں کا شکارمریضوں کے لیے بھی بڑی خوش خبری تھی جو عموماً علاج کے اخراجات کے بوجھ تلے سسکتے رہتے ہیں۔
2003ء میں انہوں نے اپنی جمع پونجی لی، کچھ رقم دوست احباب سے پکڑی اور اپنے مسکن امریکی شہر،شگاگو میں تھراپیٹک پروٹینز (Therapeutic Proteins, Inc) نامی کمپنی دس لاکھ ڈالر (دس کروڑ روپے) کے سرمائے سے قائم کردی۔ اس زمانے میں حیاتی مماثل ادویہ کا نظریہ ابتدائی شکل میں تھا… جبکہ کوئی ایسی دوا عملی طور پہ بنی ہی نہیں تھی۔ مگر ڈاکٹر سرفراز کی دور رس نگاہوں نے دیکھ لیا کہ مستقبل قریب میں حیاتی مماثل ادویہ کا شعبہ بڑی اہمیت اختیار کرجائے گا۔
ڈاکٹر سرفراز کا خیال درست نکلا۔ تاہم ان کے حوصلے صحیح معنوں میں 2010ء میں بلند ہوئے۔ اسی سال امریکی حکومت نے حیاتی مماثل ادویہ کی توثیق و ترویج کے لیے ایک قانون ’’ایفورڈ ایبل کیئر ایکٹ‘‘ (Affordable Care Act) پاس کیا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ یوں امریکا اور یورپ میں بھی حیاتی مماثل ادویہ کی تیاری اور خرید و فروخت قانون کے دائرے میں ہونے لگی۔
درج بالا ایکٹ کی تشکیل کے بعد ڈاکٹر سرفراز کی کمپنی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ جب امریکی سرمایہ کاروں کو علم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب حیاتی مماثل دوا بنانے کا سستا و اچھوتا طریق کار دریافت کرچکے، تو وہ تھراپٹک پروٹینز میں بڑھ چڑھ کر پیسہ لگانے لگے۔ اب کمپنی کی مالیت 100 ملین ڈالر (دس ارب روپے) تک پہنچ چکی جبکہ کمپنی میں ’’دو سو ملازمین‘‘ کام کررہے ہیں۔
آج ڈاکٹر سرفراز نیازی کی زیر قیادت کمپنی کے سائنس داں ’’نو‘‘ حیاتی مماثل ادویہ پر کام کررہے ہیں۔ اسی حقیقت نے غیر معروف پاکستانی ماہر ادویہ سازی کو اچانک امریکا کی دنیائے طب میں مشہور ہستی بنادیا۔ وجہ یہی کہ ڈاکٹر سرفراز نیازی قیمتی انسانی زندگیاں بچانے والی ایسی ادویہ ایجاد کررہے ہیں جو بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی ہوں گی۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی کی شخصیت اس امر کا ثبوت ہے کہ ایک پاکستانی کو مواقع میسر آئیں، تو وہ اپنی ذہانت، محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایسے محیر العقول کارنامے انجام دے سکتا ہے کہ دنیا والے دنگ رہ جائیں۔ اگلے ڈیڑھ برس میں ڈاکٹر سرفراز نیازی اپنی کمپنی میں تیار کردہ ’’چار حیاتی مماثل ادویہ‘‘ مارکیٹ میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقی حیاتی ادویہ کے مقابلے میں ’’50 تا 75 فیصد‘‘ سستی ہوں گی جبکہ بیماری دور کرنے کی صلاحیت میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔
پہلی دو دوائیں ’’نیولاسٹا‘‘ (Neulasta) اور ’’نیوفوجن‘‘ (Neupogen) حیاتی ادویہ کی حیاتی مماثل دوائیں ہیں۔ یہ دونوں ادویہ کیمیوتھراپی اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے دوران سفید خونی خلیوں (White Blood Cells) کی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں۔ یاد رہے، انسانی جسم میں یہی خلیے ہمیں چھوت و مرض سے بچاتے ہیں۔
نیولاسٹا یا نیوفوجن ٹیکوں کے دوہفتے والے کورس پر تقریباً چار لاکھ روپے (4 ہزار ڈالر) خرچ ہوتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر سرفراز نیازی کی تیار کردہ حیاتی مماثل دوا ڈیڑھ دو لاکھ میں مریض کو صحت بخش سکیںگی۔ دنیا میں ہر سال چھ ارب ڈالر (چھ کھرب روپے) مالیت کی درج بالا دونوں دوائیں خریدی جاتی ہیں۔ اس عدد کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ حالیہ مالی سال میں حکومت پاکستان کا بجٹ تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کا ہے۔
تھراپٹکس پروٹینز کی اگلی دو ادویہ ’’ہومیریا‘‘ (Humira) حیاتی دوا کی نقل ہوں گی۔ یہ انجکشن جوڑوں کے درد اور گٹھیا میں افاقہ پہنچاتا ہے۔ ایک ماہ تک علاج کے ٹیکے تقریباً پونے دو لاکھ روپے میں آتے ہیں۔ گویا یہ بھی مہنگی دوا ہے۔ اس کے باوجود ہومیریا کا شمارہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی ادویہ میں ہوتا ہے۔ ہر سال 12 ارب ڈالر (بارہ کھرب روپے) کے ہومیریا ٹیکے خریدے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی نے فی الوقت امریکا کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے جہاں غربت کم ہے۔ نیز حکومت بھی ناداروں کے علاج میں مدد کرتی ہے مگر ان کا حقیقی ویژن یہ ہے کہ وہ غریب ممالک میں فروخت ہونے والی کم قیمت حیاتی مماثل ادویہ تخلیق کریں… ایسی دوائیں جنہیں ایک نادار بھی خرید سکے۔ یونہی ان کا مشن پورا ہوسکتا ہے۔ ایک سیانے کا قول ہے:
’’ایک انسان کو سچی مسرت و اطمینان اسی وقت ملتا ہے جب اسے معلوم ہوکہ اس کی وجہ سے ایک شخص خوش و خرم ہوگیا۔‘‘
اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے جلو میں پروان چڑھنے والے ڈاکٹر سرفراز نیازی درج بالا قول پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔
سائنس دان، موجد، شاعرفوٹوگرافر اور موسیقار
ڈاکٹر سرفراز خان نیازی مشہور اردو ادیب و مدیر، علامہ نیاز فتح پوری کے صاحب زادے ہیں۔10 جولائی 1949ء کو لکھنؤ( بھارت) میں پیدا ہوئے۔ 1962ء میں والدین کے ہمراہ کراچی چلے آئے۔ 1969ء میں کراچی یونیورسٹی سے بی فارمیسی کیا۔ بعد ازاں امریکا چلے گئے۔ وہاں واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی سے فارمیسی میں ایم اے کیا۔ 1974ء میں الینائے یونیورسٹی سے فارمیسی ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری پائی۔

ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ شکاگو چلے گئے اور وہاں الینائے یونیورسٹی کے کالج آف فارمیسی میں پڑھانے لگے۔ 1988ء میں کراچی واپس آئے اور ایک مشہور عالمی ادویہ ساز کمپنی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل افیئرز مقرر ہوئے۔ اسی دوران آغا خان یونیورسٹی سے بہ حیثیت پروفیسر فارما کولوجی (Pharmacology) منسلک رہے۔
1996ء میں متحدہ ارب امارات کی ادویہ ساز کمپنی‘ گلف فارماسیوٹیکل کمپنی میں کام کرنے لگے۔2003ء میں اپنی ادویہ ساز کمپنی‘ تھراپٹک پروٹیز کی بنیاد رکھی جو اب بین الاقوامی ادارہ بن چکا ۔ آپ ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری (کراچی یونیورسٹی ) اور نیسٹ‘ اسلام آباد میں بھی گاہے بگاہے لیکچر دیتے ہیں۔
والد کی طرح ڈاکٹر سرفراز بھی ہمہ جہت شخصیت ہیں یعنی موجد‘ سائنس داں‘ شاعر‘ لکھاری‘ فوٹو گرافر اور موسیقار ! اب تک امریکا میں اپنی 70 سے زیادہ ایجادات رجسٹرڈ (پیٹنٹ) کروا چکے۔ ان سبھی ایجادات کی بنیاد ڈاکٹر سرفراز کا یہ نظریہ ہے: ’’ایک کام کو زیادہ سے زیادہ آسان بنایا جائے۔‘‘
چنانچہ انہوںنے ایک ایسی ٹوپی ایجاد کی جس کے کنارے میں پوشیدہ سوراخ موجود ہیں۔ اس ٹوپی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تیز ہوا میں بھی سر پر جمی رہتی ہے۔ اسے انہوں نے ’’تیز ہوا والی شہری ٹوپی‘‘ (Windy city hat) کا نام دیا۔اسی طرح ایسے اشارے ایجاد کیے جو کار کے اطراف میں لگ سکیں۔ یوں لین بدلتے یا موڑ کاٹتے ہوئے ان اشاروں کی مدد سے حادثے کا امکان کم ہو گیا۔
آپ تکنیکی و ادبی موضوعات پر سیکڑوں مضامین‘ ایک سو سے زیادہ مقالے اور درجنوں کتب تحریر کر چکے ۔ مرزا غالب کی شاعری کے عاشق ہیں۔ لہٰذا 2002ء میں پورا دیوان غالب انگریزی میں ترجمہ کر کے اس عظیم اردو شاعر کو دنیائے مغرب میں متعارف کرایا۔
ڈاکٹر سرفراز خود بھی اچھے شاعر ہیں۔ 1962ء میں ریڈیو پاکستان کے سربراہ‘ زیڈ اے بخاری نے نوجوان شعراء کا مشاعرہ کرایا۔ اس مشاعرے میں تیرہ سالہ سرفراز نے ایک غزل سنا کر میلا لوٹ لیا۔ وہ غزل بخاری صاحب جیسی قد آور ادبی شخصیت کو بھی پسند آئی۔
غزل کے چند اشعار یہ ہیں:
دل بیتاب کسی طرح بہلتا ہی نہیں
شاید اس درد محبت کا مداوا ہی نہیں
پوچھتے کیا ہو تم اب حال نیازی ہم سے
در پہ اس کے جو وہ بیٹھا‘ تو پھر اٹھا ہی نہیں

دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کرنے پر حکومت پاکستان نے 2012ء میں آپ کو ستارہ امتیاز سے نوازا۔ ڈاکٹر سرفراز کا ایک نظریہ یہ ہے کہ کسی خیال یا کام پر حد سے زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کے نام ان کا پیغام ہے۔
’’آپ کبھی اپنے خیالات کے اسیر نہ بنیے ۔اگر کوئی خیال یا کام مسئلہ حل نہ کر سکے‘ انسانی زندگی کو بہتر نہیں بنائے‘ تو اسے چھوڑ دیجیے اور آگے بڑھئیے۔ آپ کو مزید کئی انقلابی نظریے و خیالات مل جائیں گے۔‘‘